حشر کے روز ۔ عزیز میاں ۔ 4/4

۳

کیوں نہ روکا گیا مجرم کو خطا سے پہلے۔

سُنتا ہوں قیامت میں کہ تو عدل کرے گا،

مل جائگی اعمال کے بدلے کی سزا،

نیکوں کو سرِ حشر تو جنّت دیگا،

ہم جیسے گناہ گاروں کو دوذخ ہے کُلا،

میں عدل کا مُنکِر تو نہیں میرے خدا،

کرنا تھا فقت عدل تو پھر اتنا بتا،

تو نے ہمیں رحمت کا بھروسا کیوں دیا تھا۔

کیوں نہ روکا گیا مجرم کو خطا سے پہلے۔

اے الّلہ، وہ کون ہیں جنہے توبا کی مل گئ فرست،

ہمیں گناہ بھی کرنے کو زندگی کم ہے،

زندگی کم ہے کیون، ہم پیدا ہوئے،

ہم پیدا ہوئے اذان ہوئ،اور جب مرے ہوئ نماز،

اتنی سی دیر کا تو حساب لیتا ہے۔

کیوں نہ روکا گیا مجرم کو خطا سے پہلے۔

اے خدا قادر ہے تو ہر شہ پہ ہے قدرت تیری،

گلشن میں صبا کو جستجو تیری ہے،

بلبل کی زباں پہ گفتگو تیری ہے،

واہ رے قدرت تیرے انداز،

جس دھول کو سونگتا ہوں بو تیری ہے،

اے الّلہ،  قادر ہے تو، تجلّہ تیری شان کا کو بکو ہے،

میں جدھر دیکھتا ہوں اُدھر تو ہی تو ہے،

اے الّلہ، قادر ہے تو ہر شہ پہ ہے قدرت تیری،

تجسّس میں تیری ہر شہ پہ یوں نظریں جماتا ہوں،

نہ جانے کون سی شہ میں تیرا دیدار ہو جائے،

اے الّلہ، اِدھر بھی تو اُدھر بھی تو یہاں بھی تووہاں بھی تو،

اے الّلہ، قادر ہے تو ہر شہ پہ ہے قدرت تیری،

عدل بھی تیرا عدالت بھی مسیحت بھی تیری،

یعنی دوذخ بھی تیرا اور یہ جنّت بھی تیری،

اے الّلہ، بن تیرے حکم کے پتّا بھی نہیں ہل سکتا،

آدمی چاہے تو ایک پاؤں  نہیں چل سکتا،

اے الّلہ، دونوں عالم میں فرمان تیرا جاری ہے،

میرے ہر سانس پہ مولا تجھے مختاری ہے۔

کیوں نہ روکا گیا مجرم کو خطا سے پہلے۔

کچھ سوچنے دے داورِ مہشر ذرا ٹھہر،

میں کر رہا ہوں اپنے گناہوں کا خد شمار۔

کیوں نہ روکا گیا مجرم کو خطا سے پہلے۔

ہم نے گناہ کئے تو نمایاں ہوا کرم،

ہم بے گناہ ہوتے تو کہتا کریم کون،

فرشتے پوچھینگے مہشر میں پاک بازوں سے،

گناہ کیوں نہ کئے، کیا خدا کریم نہ تھا؟

کیوں نہ روکا گیا مجرم کو خطا سے پہلے۔

مقبول وہ کریں نہ کریں میری بندگی،

اُن کو بٹھا کے سامنے سجدا کیا تو ہے،

دریاِ مسیحت میں نہ ڈوبوں گا میں کبھی،

کشتی میری شکستہ صحیح نا خدا تو ہے،

اے الّلہ، آسی ہوں بخش دینے کو اُس نے کہا تو ہے،

جنّت مجھے ملے نہ ملے  آسرا تو ہے۔

کیوں نہ روکا گیا مجرم کو خطا سے پہلے۔

آدم اگر خطا سے نہ گر ہوتا آشنا،

آدم اگرچہ کرتا نہ مُطلق کوئ خطا،

ہوتا نہ ماسیت سے اگر کوئ واسطا،

نفسانی خواہشات سے ہوتا بے مدّع،

آدم اگرچہ کرتا نہ مُطلق کوئ خطا،

ہوتا نہ ماسیت سے اگر کوئ واسطا،

سراپا آرزو کرنے نے بندا کر دیا ہم کو،

سراپا آرزو، ترکِ مدّع کر دے، عینِ مدّع ہو جا،

عاشق اگرچہ ہے تو کوئ مدّع نہ مانگ،

سراپا آرزو کرنے نے بندا کر دیا ہم کو،

سراپا آرزو، ترکِ مدّع کر دے، عینِ مدّع ہو جا،

شانِ عَبد پیدا کر، مظہرِ خدا ہو جا،

آدمی نہیں سُنتا، آدمی کی باتوں کو،

پیکرِ عمل بن کر، غیب کی سدا ہو جا،

تو ہے جب پیام اُس کا، پھر پیام کیا تیرا،

تو ہے جب سدا اُس کی، آپ بے سدا ہو جا،

خطراِ تنک مایا، دہرِ بے کراں ہے تو،

اپنی اِبتدا بن کر، اپنی انتہا ہو جا،

سراپا آرزو کرنے نے بندا کر دیا ہم کو،

وگر نہ ہم خدا تھے، گر دلِ بے مدّع ہوتا،

سراپا آرزو کرنے نے بندا کر دیا ہم کو،

ہوتا خدا کا عشق تو بن جاتا اور کچھ،

بندے کے عشق نے مجھے بندا بنا دیا،

بیتابیاں سمیٹ کے سارے جہان کی،

جب کچھ نہ بن سکا تو میرا دل بنا دیا،

ہوتا خدا کا عشق تو بن جاتا اور کچھ،

بندے کے عشق نے مجھے بندا بنا دیا،

سراپا آرزو کرنے نے بندا کر دیا ہم کو،

وگر نہ ہم خدا تھے، گر دلِ بے مدّع ہوتا،

تو معارفت حضرتِ انساں ہوئ گناہوں سے،

تیری خدائ سجی ہے میری خطاوُں سے۔

کیوں نہ روکا گیا مجرم کو خطا سے پہلے۔

ذوقِ یقیںِ کُفر کو ایماں بنا دیا،

جس در پہ جھک گئے درِ جاناں بنا دیا،

ویراناِ خراب تھا دل تیری یاد میں،

معموراِ بہارِ گُلفشاں بنا دیا،

اُس راز کو جو قلبِ عدل میں نہ چھپ سکا،

پدہاک کیا تو پیکرِ انساں بنا دیا،

اُس راز کو جو قلبِ عدل میں نا چھپ سکا،

کیونکہ کُن کو کَندن کہہ کہ خُد، اپنی حقیقت کہہ گئے،

میں نے پوچھا میری ہستی، بولے میرا راز ہے،

اُس راز کو جو قلبِ عدل میں نا چھپ سکا،

پدہاک کیا تو پیکرِ انساں بنا دیا،

اب آدمی کچھ اور ہماری نظر میں ہے،

جب سے سنا ہے یار لباسِ بشر میں ہے،

پیکرِ انساں بنا دیا۔

جب چار عنا صر کو بسد شوق ملایا،

جنّت میں اُسی خاک کا پھر پُتلا بنایا،

اور سارے فرشتوں کو تھا یہ حکم سنایا،

کہ تم حکم کی میرے سبھی تعمیل کرو گے،

جس وقت میں روح پھوکوں گا تم سجدا کرو گے،

ایک نقطا مگر میری سمجھ میں نہیں آیا،

کیونکہ میں سُنتا ہوں دمِ نزا عجب ہو گا تماشا،

روح کھینچنے کے واصطے آئگا فرشتا،

اے الّلہ، روح تو نے امانت مجھے دی ہے میرے مولا،

آدم ہوں فرشتے پہ بھروسا نہ کروں گا،

اے الّلہ، تو آئے تو روح شوق سے میں نظر کروں گا،

ہاتھوں سے فرشتے کے میں ہر گز نہ مروں گا۔

کیوں نہ روکا گیا مجرم کو خطا سے پہلے۔

  1. میرے ذہن سے اس وقت شئیر کرنے کا اردو متبادل محو ہوگیا ہے لہذا شئیر کرنے کا شکریہ۔۔ مزہ آگیا پڑھ کر ہی۔۔

Leave a Reply