حشر کے روز ۔ عزیز میاں ۔ 3/4

۳

حشر کے روز یہ  پوچھوں گا خدا سے پہلے۔

باغِ بہشت سے مجھے تو نے سَفر دیا تھا کیوں،

کارِ جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر۔

حشر کے روز یہ  پوچھوں گا خدا سے پہلے۔

روزِحساب پیش ہو جب میرا دفترِ عمل،

آپ بھی شرم سار ہو، اور مجھ کو بھی شرم سار کر۔

حشر کے روز یہ  پوچھوں گا خدا سے پہلے۔

ہیں آج کیوں ذلیل، کہ کل تک نہ تھی پسند،

گستاخیِ فرشتا ہماری جناب میں۔

حشر کے روز یہ  پوچھوں گا خدا سے پہلے۔

اُلٹی ہوں گئیں سب تدبیریں، کچھ نہ دوا نے کام کیا،

دیکھا اس بیماریِ دل نے، آخر کام تمام کیا،

عہدِ جوانی رو رو کاٹا، پیری میں لیں آنکھیں موند،

یعنی رات بہت تھے جاگے، صبح ہوئ آرام کیا،

ناحق ہم مجبوروں پر تہمت ہے مختاری کی،

چاہتے ہیں سو آپ کریں، ہم کو ابث بدنام کیا۔

حشر کے روز یہ  پوچھوں گا خدا سے پہلے۔

تمام عمر یہ کہتا رہا، کریم ہوں میں،

گناہ گار سے آخر حساب کیسا ہے۔

حشر کے روز یہ  پوچھوں گا خدا سے پہلے۔

تجھ کو کریم جان کے، میں نے کئے گناہ،

بخشے نا تو، یہ تیری کریمی سے دور ہے۔

حشر کے روز یہ  پوچھوں گا خدا سے پہلے۔

کرتے ہیں سوالات، پسِ مَرد فرشتے،

آرام کی منظل میں بھی آرام نہیں ہے۔

حشر کے روز یہ  پوچھوں گا خدا سے پہلے۔

جو تیرا ایک بار کرتے ہیں،

ہر شدّت انتظار کرتے ہیں،

اے الّلہ، یه رِند اتنے گناہ نہیں کرتے،

جتنے پرہیذ گار کرتے ہیں۔

حشر کے روز یہ  پوچھوں گا خدا سے پہلے۔

حشر کے روز یہ  پوچھوں گا خدا سے پہلے،

کیوں نہ روکا گیا مجرم کو خطا سے پہلے۔

مہشر میں تیری شان نظر آئے گی،

دنیا یہ پریشان نظر  آئے گی،

اے الّلہ، بخشے گا نہ ہم سے گناہ گاروں کو،

جنّت تیری ویران نظر آئگی۔

کیوں نہ روکا گیا مجرم کو خطا سے پہلے۔

نہ کرنظر میرے جرمِ گناہِ بے حد پر،

الٰہی تجھے غفورالرحیم کہتے ہیں،

کہِیں کہیں نہ فرشتے یہ کہہ کر ذلیل مجھے،

یہ اُس کا بندا ہے جسے کریم کہتے ہیں۔

کیوں نہ روکا گیا مجرم کو خطا سے پہلے۔

اے الّلہ، وائض کی بندگی ہے جہنّم کے خوف سے،

میں نے گناہ کئے تجھ کو غفّار سمجھ کر۔

کیوں نہ روکا گیا مجرم کو خطا سے پہلے۔

اے الّلہ، گناہوں میں تیری رضا چاحتا ہوں،

میرا حوصلہ دیکھ کیا چاحتا ہوں۔

کیوں نہ روکا گیا مجرم کو خطا سے پہلے۔

اے الّلہ، ہم ہیں خطا کارسیاہ کار،

ہم کو نہیں گِلا جو عطا کی ہمیں دوذخ،(کیوں؟)

ہم ہیں ہی خطا کار،سیاہ کار، گناہ گار،

لیکن دوذخ کا گناہ کیا ہے ذرا یہ تو بتا دے،

آئے ہیں اس بیچاری کے حصّہ میں گناہ گار کیوں۔

کیوں نہ روکا گیا مجرم کو خطا سے پہلے۔

اے الّلہ، مجھے پیدا کیا تو اپنی صورت کا کیا پیدا،

پھر اُس کے بعد، خد ہی دیکھ کر، خد ہو گیا شیدا،

فرشتوں نے کیا دیکھو افلاق پر مجھے سجدا،

میرے سر پر جب اِنّی جائلُن کا تاج رکھا تھا،

نہ سمجھو خاک کا پُتلا، بناِ دو جہاں میں ہوں،

نہ تھا کچھ تو خدا تھا، میاں کچھ نا ہوتا تو خدا ہوتا،

ڈُبویا مجھ کو ہونے نے، نہ میں ہوتا تو کیا ہوتا،

نہ تھا کچھ تو خدا تھا، میاں کچھ نا ہوتا تو خدا ہوتا،

ڈُبویا مجھ کو ہونے نے، ہونے نے ڈُبویا،

کیونکہ  یہاں ہونا نہ ہونا ہے،

لائ حیات آئ قضا لے چلی چلیں،

اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے،

یہاں ہونا نہ ہونا ہے،

آگاہ اپنی موت سے کوئ بشر نہیں،

یہاں ہونا نہ ہونا ہے،

جائے دنیا سراِ فانی ہے،

یہاں ہونا نہ ہونا ہے،

میاں کچھ بھی نہیں سوائے مسلسل فریب ہے،

دیکھا ہے زندگی کو نہایت قریب سے،

یہاں ہونا نہ ہونا ہے،

کیوں یہاں سے غافل ہوتے ہو،

کیوں عمر گناہ میں کھوتے ہو،

کیوں شیش مہل میں سوتے ہو،

یہاں ہونا نہ ہونا ہے،

کیونکہ بولتا آغاز ہو،ارے بولتا انجام ہے،

تم جس کو آدم کہتے ہو وہ بولتے کا نام ہے،

یہاں ہونا نہ ہونا ہے،

اور نہ ہونا عین ہونا ہے،

کیونکہ نہ تھا کچھ تو خدا تھا،

میاں کچھ نا ہوتا تو خدا ہوتا،

ڈُبویا مجھ کو ہونے نے،

نہ میں ہوتا تو کیا ہوتا،

اگر بہرِ مانی سے نہ یہ قطرا جدا ہوتا،

نہ یہ دنیا بنی ہوتی،

نہ یہ عالم بنا ہوتا،

وہ بندا کس کو کہتا،

اور وہ کس کا خدا ہوتا،

جو سچ پوچھو تو وہ یہ ہے،

بناِ دو جہاں میں ہوں،

لیکن اے الّلہ،لے دے کے کمائ تھی میری بعدِ بہشت،

اُس کو تو ازل کے روز لُٹا بیٹھا تھا،

اب تو میرے دامن میں کوئ چیز نہیں،

روزِ مہشر دوں حساب کس کا۔

کیوں نہ روکا گیا مجرم کو خطا سے پہلے۔

Leave a Reply