حشر کے روز ۔ عزیز میاں ۔ 2/4

۲

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔

اگرچہ تو نے ہمیں بخش بھی دیا تو کیا،

گناہ گار کولیکن قرار کیوں آئے،

ہمارے ساتھ یہ واعظ  بھی بخشا جائے گا،

کہ تاکہ حوروں کو میرے خلاف بھڑکائے،

اگر یہ سچ ہے توپھر صاف صاف سن لے،

تیرے بہشت سے ہم لاکھ بار باز آئے۔

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔

جو انساں ہیں کسی آفت میں گھبرایا نہیں کرتے،

بلاسے جان جائے مگر پھر بھی پچھتایا نہیں کرتے،

میں انساں ہوں مجھے جنّت نہیں اب عرش پہ بُلوا،

جسے ٹھکرا کے آ جائیں وہاں لوٹ کہ جایا نہیں کرتے۔

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔

زندگی میں آپ نے تنہا مجھے چھوڑا نہیں،

میں آپ کی موجوگی میں کس طرح کرتا خطا،

دیکھنا یہ ہے، حشرکے میدان میں ربِّ کریم،

ساتھ رہنے کاکیا آپ دیتے ہیں صِلا۔

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔

اے اللّہ تیری رحمت نے کیا وعدہِٴ بخشش جب سے،

توبہ  روٹھی ہوئی بیٹھی ہے گناہ گاروں سے۔

کیوں نہ روکا گیا  مجرم کو خطا سے پہلے۔

اے الّلہ ،  تیری رحمت سے رہے رشتہ قائم،

احتیاطً گناہ کرتا ہوں میں۔

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔

دانشتہ گناہ گار ہوں سن کر،

رحمت کو ضرورت ہے گناہ گاروں کی،

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔

حضورِ حسن بحالِ پریشاں جانے والے سن،

خزا ں کولے کے نزدیکِ چمن جایا نہیں کرتے،

حرم ہو  دَیر ہو  کچھ ہو،  خلوصِ دل کے سجدے رائگاں جایا نہیں کرتے،

ادھر آ رحمت دے مجرم نواز آ جا ادھر،

وہ ہم ہیں جو خطا ئیں کر کے پچھتایا نہیں کرتے۔

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔

یہ مانا کہ مولا گناہ گار ہوں،

گناہ گار ہوں اور سیاہ کار ہوں،

گیا جو بت خانے میں بت پرستی کی،

گیا جو مے خانے میں وہاں مے پرستی کی،

حشر میں فرشتےپیشِ خدا لیکر چلے،

گناہوں کے دفتر ہمراہ لئے،

یہ ہے وہ جو کرتا تھا ہر دم گناہ،

یہ حد سے زیادہ سیاہ کار ہے،

یہ بندہ بیشک گناہ گار ہے،

مگر اے کاتبِ تقدیر،یہ تقصیر کس کی ہے،

خطا میری ہے تقدیر میں تو تحریر کس کی ہے۔

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔

ارے مجھ گناہ گار پہ بس اتنا سا احساں کر دے،

روزِ محشر کو میرا تابعِ فرماں کر دے۔

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔

ارے مُنکرِ رحمتِ خدا رہنا،

کُفر ہے اتنا پارسا رہنا۔

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔

جب جاؤں گا میں قبر میں فرشتے آئیںگے،

پوچھینگے، من ربُّکَ من دینُکَ،

تو کہہ دونگا میں،

اِن فرشتوں کو حساب تو دے دوں،

مگر تو بھی سوچھ لے،

اِنہوں نے مجھ کو سجدہ کیا تھا میں وہی آدم ہوں۔

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔

میرے سر پر جب  اِنّی جاعلُٗ کا تاج رکھا تھا،

اور اِن سارے فرشتوں نے کہا تھا یک بار،

اے اللّہ، یاد آتی ہے مجھے سبحِ ازل کی گُفتار،

تو نے باندھی تھی سر میرے خلافت کی دستار،

اور اِن سارے فرِشتوں نے کہا تھا یک بار،

ہم تیری حمد کو موجود ہیں اے پر ور دگار،

تو جو اِس خاک کے پُتلے کو خلافت دیگا،

یہ جہاں ظلم و جور  سے پُر کر دیگا،

گو نامہٴ اعمال میرا حد سے سیاہ ہے،

لیکن میرے معبود فرشتے نے لکھا ہے،

تو دانا و بینا تجھے ہر شہ کا پتا ہے،

یہ روزِازل مجھ سے خلافت پہ خفا ہے،

اس کی تحریر پہ دوزخ کی اجازت کیسی،

بخش دے ورنہ میں کہہ دونگا خلافت کیسی۔

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔

اللّہ ! میں بندہ تو معبود میں عبد تو کریم میں گناہ گار،

اے اللّہ ! اب حساب لینا ہے حساب لے لے،

میں گناہ لاؤں تو کرم لا،

میرے گناہ زیادہ ہوں جہنّم دے دے،

تیرا کرم زیادہ ہو جنّت دے دے۔

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔

ایسی جنّت کو کیا کروں لیکر،

جہاں لاکھوں برس کی حوریں ہوں۔

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔

حساب لے کے دی جنّت تو پھر یہ بدلہ ہوا،

مزا تو تب ہے کہ بخشے حساب سے پہلے۔

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔

ہم آدم کی ہیں اولاد، سن اے داورِ محشر،

جنّت تو ہمیں باپ کے وِرثہ میں ملے گی۔

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔

جب میں جیتا ہوں تو کہتے ہیں کہ مرتا ہی نہیں،

کیا گلا گھونٹ کے مر جاؤں قضا سے پہلے۔

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔

بے کسی تو ہی ذرا اُن کی خوش آمد کر لے،

کیا گلا گھونٹ کے مر جاؤں قضا سے پہلے۔

دیر اُس بَد  میں ہے پھولنے پھلنے کے لیے،

مجھ کو یہ حکم ہے بیٹھے رہو جلنے کے لیے۔

کیا گلا گھونٹ کے مر جاؤں قضا سے پہلے۔

حسن کو بے نقاب دیکھا ہے،

آرزووٴں کا خواب دیکھا ہے،

اور بھی پوچھو عشق میں شاید،

میں نے اضطراب دیکھا ہے،

پہلوِ غیر میں ارے توبہ،

اِس قیامت کا خواب دیکھا ہے۔

کیا گلا گھونٹ کے مر جاوں قضا سے پہلے۔

جب وسیلے کے سِوا وہ ہمیں ملتاہی نہیں،

ہم پکاریں گے محمّد کو خدا سے پہلے۔

الِف آدم میں ہے مَمدود،

اور احمد میں بے حد کا،

سبب یہ ہے وہاں سایہ تھا،

یہاں سایہ نہ تھا قد کا،

مصوِّر کھینچنے بیٹھاجو نقشہ اس صحیع قد کا،

قمر کا یہ پتہ رکھا کہ خط کھینچا نہ داور کا،

تعریف کیا کروں میں محمّد کے میم کا،

اِس میم سے ہے دفتر الِف لام میم کا،

وحدانیت کا جس کواگر ذوق و شوق ہو،

پَردہ اٹھا کے دیکھ لے احمد کے میم کا،

جو میں نے میم احمد سے نکالا،

حقیقت یہ کہ پھر احمد احد تھا،

نہ تھا کچھ فرق دونوں ایک صورت،

تھے دونوں ایک ہی صورت کی مورت،

یہ مانا عشق بہتر اور بڑا ہے،

مگر معشوق کا بھی مرتبہ ہے،

احد کو تو اگر اللّہ جانو،

تو احمد کو رسول اللّہ مانو،

احد بے عیب نام اللّہ کا ہے،

تو نام احمد رسول اللّہ کا ہے،

اُدھر جب نام ربّ العالمین ہے،

اِدھر یہ رحمتّ العالمین ہے،

جو اُن کا نام ہے غفّار دیکھو،

تو یہ ہے احمدِ مختار دیکھو،

نمازیں فرض گر اللّہ کی ہیں،

تو سنت بھی رسول اللّہ کی ہیں۔

ہم پکاریں گے محمّد کو خدا سے پہلے۔

Leave a Reply