حشر کے روز ۔ عزیز میاں ۔ 1/4

حشر کے روز، پوچھونگا خدا سے پہلے۔۔۔

تو ہے مُہیتِ بیکراں، میں ہوں ذرا سیابِ جُز،
یا مجھے ہم کنار کر، یا مجھے بے کنار کر،
مجھ کو تواس جہان میں، صرف تجھ ہی سے عشق ہے،
یا میرا امتحاں لے، یا میرا اعتبار کر۔

حشر کے روز، پوچھونگا خدا سے پہلے۔۔۔

کس واسطے موسیٰ کی ضد، طور پہ پوری کی،
دکھلا کے جھلک آخر، کس کی ہوئی رسوائی،

دوذخ میں ڈال، یا مجھے جنّت میں ڈال دے،
صورت دکھا کے پر میری حسرت نکال دے،
اے الّلہ، صداِ صورسے میں قبر میں نہ جاگونگا،
کسی سنی ہوئی آواز سے پکار مجھے۔

حشر کے روز، پوچھونگا خدا سے پہلے۔۔۔

اے الّلہ، کیا عہدِ موسیٰ میں نہ تھا،
قابلِ جلوہ کوئی دل، ورنہ وہ اور پہاڑی پہ نمایاں ہوتا۔

حشر کے روز، پوچھونگا خدا سے پہلے۔۔۔

طور پر مسکرانے سے کیا فائدہ،
پردے پردے میں آنے سے کیا فائدہ،
اے الّلہ، چھپ کےجلوہ دکھانے سے کیا فائدہ،
اب نظر آنے سے کیا فائدہ۔

حشر کے روز، پوچھونگا خدا سے پہلے۔۔۔

ملا جو موقع تو روک دونگا،
جلال روزِ حساب تیرا،
پڑھونگا رحمت کاوہ قصیدہ،
کہ ہنس پڑیگا عتاب تیرا،
یہی تو ہیں دو ستونِ محکم،
انہی پہ قائم ہے نظمِ عالم،
یہی تو ہے راگ خُلدوآدم،
نگاہ میری، شباب تیرا۔

حشر کے روز، پوچھونگا خدا سے پہلے۔۔۔

میری رسائی سے دور ہے تو،
مگر اب بھی تجھ کو یاد ہو گا،
کہ میں نے ایمن کی وادیوں میں،
اُلٹ دیا تھا نقاب تیرا۔

حشر کے روز، پوچھونگا خدا سے پہلے۔۔۔

حشر کے روز، پوچھونگا خدا سے پہلے،
کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے،

گِن گِن کےگناہ بخش دئے جایںگے سبھی،
ہویہ اگر سچّے دل سے پشیمان کوئی،
جب سے ہے گناہ گاروں کو رحمت کی تلاش،
رحمت کو ضرورت ہے گناہ گاروں کی۔

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔۔۔

مانا کے خطاکار، سیا کار ہیں ہم،
دنیا کی نگاہوں میں گناہ گار ہیں ہم،
لیکن ہم اس اُمید پہ خوش ہیں اے دوست،
رحمت کے سزا وار ہیں ہم۔

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔۔۔

ہر بے گناہ کودعویٴ بخشش ہے روزِحشر،
گویا گناہ کی بھی ضرورت رہی نہیں۔

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔۔۔

ملے گی شیخ کو جنّت، ہمیں دوزخ عطا ہو گا،
بس اتنی بات کی خاطر، اے الّلہ تیرا محشر بپا ہوگا،
ہم اتنا جانتےہیں حشر کے دن ہم سے کیا ہوگا،
سب اُس کو دیکھتے ہونگے، وہ ہم کو دیکھتا ہوگا،
جہنّم ہو یا جنّت، میاں جو بھی ہوگا فیصلہ ہوگا،
یہ کیا کم ہےکہ اُن کااور میراسامنا ہوگا،
رہیں دو دوفرشتے ساتھ تو انصاف کیا ہوگا،
کسی نے کچھ لکھا ہوگا، کسی نے کچھ لکھا ہوگا۔

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔۔۔

زندگی لاکھ مقدّس صحیح پھر بھی اے شیخ،
بعض اوقات خرابات بھی ہو جاتی ہے،
حشر میں ہم سے سوالات ذرا سوچ کے کر،
باتوں باتوں میں کھری بات بھی ہو جاتی ہے۔

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔۔۔

اے الّلہ ، میں تو تیرے ناز برداروں میں ہوں،
تجھ سےاِک دن پھولوں گا اِس لیے خاروں میں ہوں،
جنسِ رحمت کے لئے شامل گناہ گاروں میں ہوں،
اور جن کے پلّے کچھ نہیں، میں اُن خریداروں میں ہوں،
تو جب کہاعصیاں سے میں نے، سخت لا چاروں میں ہوں،
بول اُٹھی رحمت، نا گھبرا میں مدد گاروں میں ہوں۔

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔۔۔

وہ کرتے ہیں طرف داری ہماری،
لو گئی گناہ گاری ہماری،
دیکھ کر، شافعِ محشر کو طرف داروں میں،
بے گناہ کہتے ہیں ہم بھی ہیں گناہ گاروں میں۔

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔۔۔

بہک کر باغِ جنّت سے چلا آیا تھا دنیا میں،
سُنا ہے بعدِ محشر پھر اُس جنّت کی دعوت ہے،
میں جنّت میں چلا تو جاؤں،پر یہ سوچ کر چُپ ہوں،
میں آدم زاد ہوں، مجھے بہک جانے کی عادت ہے۔

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔۔۔

گو نامہٴ اعمال کی تحریر ہے درست،
یہ سوچ کر پر عقل پریشان ہو گئی،
کہ واقف نہیں ہیں جب کہ فرشتے گناہ سے،
کیوں کر اُنہیں گناہ کی پہچان ہو گئی۔

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔۔۔

پیامی کامیاب آئے نہ آئے،
خدا جانے جواب آئے نہ آئے،
ذرا دربان اُن سےکہہ دے جاکر،
کہ وہ خانہ خراب آئے نہ آئے،
شُمار اپنےگناہوں کا بتا دوں فرشتوں کو،
حساب آئے نہ آئے۔

کیوں نہ روکا گیا، مجرم کو خطا سے پہلے۔۔۔

Leave a Reply