چچا سیم کے نام اِک خط

۳۱۔لکشمی مینشنز   مال روڈ۔لاہور

مورخہ ۱۶ دسمبر ۱۹۵۱

 

چچا جان ۔السّلام علیکم!

یہ خط آپ کے پاکستانی بھتیجے کی طرف سے ہے، جسے آپ نہیں جانتے،جسے آپکی سات آزادیوں کی مملکت میں شاید کوئی بھی نہیں جانتا۔

میرا ملک ہندوستان سے کٹ کر کیوں بنا،کیسے آزاد ہوا،یہ تو آپ کو اچھّی طرح معلوم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں خط لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں، کیونکہ جس طرح میرا ملک کٹ کر آزاد ہوا، اسی طرح میں کٹ کر آزاد ہوا ہوں اور چچا جان یہ بات تو آپ جیسے ہمہ دان عالم سے چھپی ہوئی نہیں ہونی چاہئے کہ جس پرندے کو پر کاٹ کر آزاد کیا جائے گا، اس کی آزادی کیسی ہوگی۔ خیر اس قصّے کو چھوڑیئے۔

میرا نام سعادت حسن منٹو ہے،اور میں ایک ایسی جگہ پیدا ہوا تھا جواب ہندوستان ہے۔ میری ماں وہاں دفن ہے، میرا باپ وہاں دفن ہے، میرا پہلہ بچہ بھی اسی زمین میں سو رہا ہے لیکن اب وہ میرا وطن نہیں،میرا وطن اب پاکستان ہے جو میں نے انگریزوں کے غلام ہونے کی حیثیت میں پانچھ چھ مرتبہ دیکھا تھا۔

میں پہلے سارے ہندوستان کا ایک بڑا افسانہ نگار تھا، اب پاکستان کا ایک بڑا افسانہ نگار ہوں۔ میرے افسانوں کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ لوگ مجھے عزت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں،سالم ہندوستان میں مجھ پر تین مقدّمے چلے تھے، یہاں پاکستان میں ایک لیکن اسے بھی بنے کتنے برس ہوئے ہیں۔

انگریزوں کی حکومت بھی مجھے فحش نگار سمجھتی تھی،میری اپنی حکومت کا بھی میرے متعلّق یہی خیال ہے۔ انگریزوں کی حکومت نے مجھے چھوڑ دیا تھا لیکن میری اپنی حکومت مجھے چھوڑتی نظر نہیں آتی۔ عدالتِ ماتحت نے مجھے تین ماہ قیدِ با مشقّت اور تین سو روپے جرمانے کی سزا دی تھی۔سیشن میں اپیل کرنے پر میں بری ہو گیا مگر میری حکومت سمجھتی ہے کہ اس کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے چنانچہ اب اس نے ہائی کورٹ میں اپیل کی ہے کہ سیشن کے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور مجھے قرار واقعی سزا دے۔۔۔دیکھئے عدالتِ عالیہ کیا فیصلہ دیتی ہے۔

میرا ملک آپ کا ملک نہیں ہے، اس کا مجھے افسوس ہے۔اگر عدالتِ عالیہ مجھے سزا دے دے تو میرے ملک میں ایسا کوئی پرچہ نہیں جو میری تصویر چھاپ سکے،میرے تمام مقدّموں کی روداد کی تفصیل چھاپ سکے۔

میرا ملک بہت غریب ہے اس کے پاس آرٹ پیپر نہیں ہے، اس کے پاس اچھّے چھاپے خانے نہیں ہیں۔ اس کی غربت کا سب سے بڑا ثبوت میں ہوں۔آپ کو یقین نہیں آئے گا۔ چچا جان بیس بائیس کتابوں کا مصنّف ہونے کے بعد بھی میرے پاس رہنے کے لئے اپنا مکان نہیں اور یہ سن کر تو آپ حیرت میں غرق ہو جائیں گے کہ میرے پاس سواری کے لئے کوئی پیکارڈ ہے نہ ڈوج۔ سیکنڈ ہینڈ موٹر کار بھی نہیں۔

مجھے کہیں جانا ہو تو سائیکل کرائے پر لیتا ہوں، اخبار میں اگر میرا کوئی مضمون چھپ جائے اور سات روپے فی کالم کے حساب سے مجھے بیس پچّیس روپے مل جائیں تو میں تانگے پر بیٹھتا ہوں اور اپنے یہاں کی کشید کردہ شراب بھی پیتا ہوں۔ یہ  شراب ہے کہ اگر آپ کے ملک میں کشید کی جائے تو آپ اس ڈسٹلری کو ایٹم بم سے اڑا دیں کیونکہ ایک برس کے اندر اندر ہی یہ خانہ خراب انسان کو نیست و نابود کر دیتی ہے۔

میں کہاں کا کہاں پہنچ گیا۔ اصل میں مجھے بھائی جان ارسکائن کولڈویل کو آپ کے ذریعے سے سلام بھیجنا تھا۔ان کو تو خیر آپ جانتے ہی ہوں گے، ان کا ایک ناول “گوڈزلٹل ایکڑ” پر آپ مقدّمہ چلا چکے ہیں۔ جرم وہی تھا جو اکثر یہاں میرا ہوتا ہے یعنی فحاشی۔

یقین جانئے چچا جان مجھے بڑی حیرت ہوئی تھی جب میں نے سنا تھا کہ ان کے ناول پر سات آزادیوں کے ملک میں فحاشی کے الزام میں مقدّمہ چلا ہے۔آپ کے یہاں تو ہر چیز ننگی ہے، آپ تو ہر چیز کا چھلکا اتار کر الماریوں میں سجا کر رکھتے ہیں۔ وہ پھل ہو یا عورت، مشین ہو یا جانور، کتاب ہو یا کیلنڈر آپ تو ننگ کے بادشاہ ہیں۔ میرا خیال تھا آپ کے ملک میں طہارت کا نام فحاشی ہو گا مگر چچا جان آپ نے یہ کیا غضب کیا کہ بھائی جان ارسکائن کولڈویل پر مقدّمہ چلا دیا۔

میں اس صدمے سے متاثر ہو کر اپنے ملک کی کشید کردہ شراب زیادہ مقدار میں پی کر مر گیا ہوتا، اگر میں نے فوراً ہی اس مقدّمے کا فیصلہ نہ پڑھ لیا ہوتا۔ یہ میرے ملک کی بد قسمتی تو ہوئی کہ ایک انسان خس کم جہاں پاک ہونے سے رہ گیا، لیکن پھر میں آپ کو یہ خط کیسے لکھتا۔ ویسے میں بڑا سعادتمند ہوں۔ مجھے اپنے ملک سے پیار ہے۔ میں انشاءالّلہ تھوڑے ہی دنوں میں مر جاؤں گا۔ اگر خود نہیں مروں گا تو خود بخود مر جاؤں گا کیونکہ جہاں آٹا روپے کا پونے تین سیر ملتا ہو، وہاں بڑا ہی بے غیرت انسان ہوگا جو زندگی کے روایتی چار دن گزار سکے۔

ہاں، تو میں نے مقدّمے کا فیصلہ پڑھا اور میں نے خانہ ساز شراب زیادہ مقدار میں پی کر خود خوشی کا ارادہ ترک کر دیا۔ بھئی چچا جان کچھ بھی ہو، آپ کے ہاں ہر چیز مُلمّع چڑھی ہے لیکن وہ جج جس نے بھائی ارسکائن کو فحاشی کے جرم سے بری کیا،اس کے دماغ پر یقیناً ملمّع کا جھول نہیں تھا۔ اگر یہ جج (افسوس ہے کہ میں ان کا نام نہیں جانتا) زندہ ہیں تو ان کہ میرا عقیدت مندانہ سلام ضرور پحنچا دیجئے۔

ان کے فیصلے کی یہ آخری سطور ان کے دماغ کی وسعت کا پتہ دیتی ہے” میں ذاتی طور پر محسوس کرتا ہوں کہ ایسی کتابوں کو سختی سے دبا دینے پر پڑھنے والوں میں خواہ مخواہ تجسّس اور استعجاب پیدا ہوتا ہے جو انہیں شہوت پسندی کی ٹوہ لگانے کی طرف مائل کر دیتا ہے۔حالانکہ اصل کتاب کا یہ منشا نہیں ہے، مجھے پورا یقین ہے کہ اس کتاب میں مصنّف نے صرف وہی چیز منتخب کی ہے جسے وہ امریکی زندگی کے کسی مخصوص طبقے کے متعلّق سچّا خیال کرتا ہے۔ میری رائے میں سچّائی کو ادب کے لئے ہمیشہ جائز قرار دینا چاہئے۔”

میں نے عدالتِ ماتحت سے یہی کہا تھا، لیکن اس نے مجھے تین ماہ قیدِ با مشقّت اور تین سو روپے کی سزا دے دی۔ اس کی رائے یہ تھی کہ سچائی کو ادب سے ہمیشہ دور رکھنا چاہئے۔اپنی اپنی رائے ہے۔

میں تین ماہ قیدِ با مشقّت کاٹنے کے لئے تیار ہوں، لیکن یہ تین سو روپے جرمانہ مجھ سے ادا نہیں ہو گا۔ چچا جان آپ نہیں جانتے میں بہت غریب ہوں، مشقّت کا تو میں عادی ہوں لیکن روپوں کا نہیں۔ میری عمر انتالیس برس کے قریب ہے اور یہ سارا زمانہ مشقّت ہی میں گزارا ہے۔ آپ ذرا غور تو فرمائے کہ اتنا بڑا مصنّف ہونے پر بھی میرے پاس کوئی پیکارڈ نہیں۔

میں غریب ہوں، اس لئے کہ میرا ملک غریب ہے۔ مجھے تو پھر بھی دو وقت کی روٹی کسی نہ کسی حیلے مل جاتی ہے، مگر میرے بھائی کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں یہ بھی نصیب نہیں ہوتی۔

میرا ملک غریب ہے، جاہل ہے کیوں؟ یہ تو آپ کو بخوبی معلوم ہے چچا جان، یہ آپ کے اور آپ کے بھائی جان بل کے مشترکہ ساز کا ایسا تار ہے جسے میں چھیڑنا نہیں چاہتا، اس لئے کہ آپ کی سماعت پر گراں گزرے گا۔ میں یہ خط ایک بر خور دار کی حیثیت سے لکھ رہا ہوں اس لئے مجھے اوّل تا آخر بر خور دار ہی رہنا چاہئے۔

آپ ضرور پوچھیں گے اور بڑی حیرت سے پوچھیں گے کہ تمہارا ملک غریب کیونکر ہے جب کہ میرے ملک سے اتنی پیکارڈیں، اتنی بیو کیں، میکس فیکٹر کا اتنا سامان جاتا ہے؟ یہ سب ٹھیک ہے چچا جان مگر میں آپ کے اس سوال کا جواب نہیں دوں گا، اس لئے آپ اس کا جواب اپنے دل سے پوچھ سکتے ہیں(اگر آپ نے اپنے قابل سرجنوں سے کہہ کر اسے اپنے پہلو سے نکلوا نہ ڈالا ہو)

میرے ملک کی وہ آبادی جو پیکارڈوں اور بیوکوں پر سوار ہوتی ہے میرا ملک نہیں۔ میرا ملک وہ ہے جس میں مجھ جیسے اور مجھ سے بد تر مفلس بستے ہیں۔

یہ بڑی تلخ باتیں ہیں، ہمارے یہاں شکر کم ہے ورنہ میں ان پر چڑھا کر آپ کی خدمت میں پیش کرتا۔ اس کو بھی چھوڑئے، بات در اصل یہ ہے کہ میں نے حال ہی میں آپ کے دوست ملک کے ایک ادیب Evelyn Waugh کی تصنیف The Loved Ones پڑھی ہے۔ میں اس سے اتنا متاثر ہوا کہ آپ کو خط لکھنے بیٹھ گیا۔

آپ کے ملک کی انفرادیت کا میں یوں بھی معترف تھا مگر یہ کتاب پڑھ کر تہ میرے منہ سے بے اختیار نکلا:

جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی

واہ واہ واہ واہ واہ واہ

چچا جان! والّلہ مزا آ گیا، کیسے زندہ دل لوگ آپ کے ملک میں بستے ہیں۔

ایویلن وا ہمیں بتاتا ہے کہ آپ کے کیلی فورنیا میں مُردوں یعنی بچھڑے ہوئے عزیزوں پر بھی ملمّع کاری کی جا سکتی ہے اور اس کے لئے بڑے بڑے ادارے موجود ہیں۔ مرنے والے عزیز کی شکل مکروہ ہو تو ان میں سے کسے میں بھیج دیئے، فارم موجود ہے اس میں اپنی خواہشات درج کر دیجئے، کام حسبِ منشا ہو گا۔یعنی مُردے کو آپ جتنا خوب صورت بنوانا چاہیں، دام دے کر بنوا سکتے ہیں، اچھّے سے اچھّا ماہر موجود ہے جو مُردے کے جبڑے کا آپریشن کر کے اس پر میٹھی سے میٹھی مسکراہٹ ثبت کر سکتا ہے۔ آنکھوں میں روشنی پیدا کی جا سکتی ہے، ماتھے پر حسبِ ضرورت نور پیدا کیا جا سکتا ہے اور یہ سب کام ایسی چابک دستی سے ہوتا ہے کہ قبر میں منکر نکیر بھی دھوکہ کھا جائیں۔

بھئی خدا کی قسم چچا جان، آپ کے ملک کا کوئی جواب پیدا نہیں کر سکتا۔

زندوں پر آپریشن سنا تھا، پلاسٹک سرجری سے زندہ آدمیوں کی شکل سنواری جا سکتی ہے اس کے متعلّق بھی یہاں کچھ چرچے ہوئے تھے مگر یہ نہیں سنا تھا کہ آپ مُردوں تک کی شکل سنوار دیتے ہیں۔

یہاں آپ کے ملک کا ایک سیّاح آیا تھا، چند احباب نے مجھ سے ان کا تعارف کرایا۔ اس وقت میں بھائی ایویلن وا کی کتاب پڑھ چکا تھا میں نے ان سے ان کے ملک کی تعریف کی اور یہ شیر پڑھا:

ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ

ایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنانا آتی ہے

سیّاح صاحب میرا مطلب نہ سمجھے مگر حقیقت یہ ہے چچا جان کہ ہم نے اپنی صورت کو بگاڑ رکھا ہے۔ اتنا مسخ کر رکھا ہے کہ اب وہ پہچانی نہیں جاتی۔ اپنے آپ سے بھی نہیں، اور ایک آپ ہیں کہ اپنے مکروہ صورت مُردوں تک کی شکل سنوار دیتے ہیں۔ حق تو یہ ہے کہ اس دنیا کے تختے پر ایک صرف آپ کی قوم ہی کو زندہ رہنے کا حق حاصل ہے۔ بخدا باقی سب جھک مار رہے ہیں۔

ہماری زبان اردو کا ایک شاعر غالب ہوا ہےجس نے آج سے قریب قریب ایک صدی پہلے لکھا تھا:

ہوئے مر کے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا

نہ کہیں جنازہ اٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا

غریب کو زندگی میں اپنی رسوائی کا ڈر نہیں تھاکیونکہ وہ اوّل تا آخررسوائے زمانہ رہا۔ اس کو خوف اس بات کا تھا کہ بعد از مرگ رسوائی ہوگی، آدمی وضعدار تھا۔ خوف نہیں بلکہ یقین تھا اسی لئے اس نے غرقِ دریا ہونے کی خواہش کی کہ جنازہ اٹھے نہ مزار بنے۔

کاش وہ آپ کے ملک میں پیدا ہوا ہوتا۔آپ اس کا بڑی شان و شوکت سے جنازہ اٹھاتے اور اس کا مزار سکائی سکریپر کی صورت بناتے اور اگر اسی کی خواہش پر عمل کرتے تو شیشے کا ایک حوض تیّار کرتے جس میں اس کی لاش رہتی، دنیا تک غرق رہتی اور چڑیا گھر میں لوگ اسے جا جا کر دیکھتے۔

بھائی ایویلن وا بتاتا ہے کہ وہاں مُردہ انسانوں ہی کے لئے نہیں، مُردہ حیوانوں کی نوک پلک درست کرنے والے ادارے بھی موجود ہیں۔ حادثے میں اگر کسی کتّے کی دم کٹ جاتی ہے تو دوسری لگا دی جاتی ہے۔ مرحوم کی شکل و صورت میں اس کی زندگی میں جتنے عیب تھے، اس کی موت کے بعد چابک دست ہاتھ درست کر دیتے ہیں۔ اسے شان و شوکت کے ساتھ کفنا دفنا دیا جاتا ہے، اس کی تربت پر پھول چڑھانے کا انتظام بھی کر دیا جاتا ہے، اور ہر سال جس روز کسی کا پالتو مرا ہو، اس ادارے کی طرف سے ایک کارڈ بھیج دیا جاتا ہے جس پر کچھ اس قسم کی عبارت ہوتی ہے:

“جنّت میں آپ کا ٹیمی یا جفی آپ کی یاد میں اپنی دم یا کان ہلا رہا ہے۔”

ہم سے تو آپ کے ملک کے کُتّے ہی اچھّے۔ یہاں آج مرے کل دوسرا دن۔ کسی کا عزیزمرتا ہے تو اس غریب پر ایک آفت ٹوٹ پڑتی ہے اور وہ دل ہی دل میں چِلّاتا ہے۔ “کم بخت یہ کیوں مرا، مجھے ہی موت آ گئی ہوتی!” سچ تو یہ ہے چچا جان، ہمیں مرنے کا سلیقہ آتا ہے نہ جینے کا۔

آپ کے ملک میں ایک صاحب نے کمال کر دیا۔ ان کو یقین نہیں تھا کہ ان کی موت کے بعد ان کا جنازہ سلیقے اور قرینے سے اٹھے گا، چنانچہ انہوں نے اپنی زندگی میں ہی کفن دفن کی بہار دیکھ لی، یہ ان کا حق تھا۔ وہ بڑی شائستگی، نفاست اور امارت کی زندگی بسر کرتے تھے، ہر چیز ان کی منشا کے مطابق ہوتی تھی، ہو سکتا ہے موت کے بعد ان کا جنازہ اٹھانے میں کسی سے کوئی کوتاہی ہو جاتی۔ بہت اچھّا کیا جو انہوں نے زندگی میں ہی اپنی موت کی آرائش و زیبائش دیکھ لی۔ مرنے کے بعد ہوتا رہے جو ہوتا ہے۔

تازہ “لائف” (مورخہ ۵ نومبر ۱۹۵۱ انٹرنیشنل اڈیشن) دیکھا، والّلہ آپ لوگوں کی زندگی کا ایک اور زندگی آموز پہلو آنکھوں کے سامنے روشن ہوا۔ دو پورے صفحوں پر تصویروں کے ساتھ آپ کے ملک کے مشہور و معروف “گینگسٹر” کے جنازے کی پوری روداد مرقوم تھی۔ وِلّی موریٹی (خدا اسے کروٹ کروٹ جنّت نصیب کرے) کی شبیہہ دیکھی۔ اس کا وہ عالی شان گھر دیکھا جو اس نے حال ہی میں پچپن ہزار ڈالر میں فروخت کیا تھا اور اس کی وہ پانچ ایکڑ کی سٹیٹ بھی دیکھی جہاں  وہ دنیا کے ہنگاموں سے الگ ہو کر آرام اور چین کی زندگی بسر کرنا چاہتا تھا، اور مرحوم کا وہ فوٹو بھی دیکھا جس میں وہ بستر پر ہمیشہ کے لئے آنکھیں بند کئے لیٹا ہے اور اس کا پانچ ہزار ڈالر کا تابوت، اور اس کے جنازے  کا جلوس جو پھولوں سے لدی پھندی گیارہ بڑی بڑی طوزینوں اور پچھتّر کاروں پر مشتمل ہے۔ الّلہ واحد شاہد ہے آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

خاکم بدہن! اگر آپ انتقال فرما جائیں تو خدا آپ کو وِلّی موریٹی سے زیادہ عزّت و شان عنائت فرمائے، یہ پاکستان کے ایک غریب مصنّف کی دلی دعا ہے جس کے پاس سواری کے لئے ایک ٹوٹی پھوٹی سائیکل بھی نہیں۔ وہ آپ سے ایک استدعا بھی کرتا ہے، کہ کیوں نہ آپ اپنے ملک کے دور اندیش آدمی کی طرح اپنی زندگی ہی میں اپنا جنازہ اٹھتا دیکھ لیں۔

بندا بشر ہے، ہو سکتا ہے کسی سے بھول چوک ہو جائے۔ ہو سکتا ہے آپ کے چہرے کا کوئی خط سنورنے سے رہ جائے اور آپ کی روح کو تکلیف پہنچے۔ مگر بہت ممکن  ہے آپ یہ خط پہنچنے سے پہلے ہی اپنا جنازہ اپنی حسبِ منشا عظیم الشان دھوم دھام سے اٹھوا کے دیکھ چکے ہوں، اس لئے کہ آپ مجھ سے کہیں زیادہ صاحبِ فہم و ادراک ہیں اور میرے چچا ہیں۔

بھائی جان ارسکائن کولڈویل کو سلام اور جج کو بھی جنہوں نے ان کو فحاشی کے جرم سے بری کیا تھا۔ کوئی گستاخی ہو گئی ہو تو اسے معاف فرمائیں۔ زیادہ حدِّ ادب۔

آپ کا مفلس بھتیجا

سعادت حسن منٹو سکنہ پاکستان

(یہ خط پوسٹیج اسٹیمپ خرید نہ سکنے کے باعث پوسٹ نہ کیا جا سکا)

Leave a Reply