چچا سیم کے نام تیسرا خط

چچا جان تسلیمات،

بہت مدّت کے بعد آپ کو مخاطب کر رہا ہوں، میں در اصل بیمار تھا۔ علاج اس کا وہی آب نشاط انگیز تھا ساقی مگر معلوم ہوا، کہ یہ محض شاعری ہی شاعری ہے معلوم نہین ساقی کس جانور کا نام ہے۔ آپ لوگ تو اسے عمر خیام کی رباعیوں والی حسین و جمیل فتنہ ادا اور عشوہ طراز معشوقہ کہتے ہیں، جو بلور کی نازک غردن صراحیوں سے اس خوش قسمت شاعر کو جام بھر بھر کے دیتی تھیں۔ مگر یہاں تو کوئی مونچھوں والا بد شکل لونڈا بھی اس کام کے لئے نہیں ملتا۔

یہاں سے حسن بلکل رفو چکّر ہو گیا ہے۔ عورتیں پردے سے باہر تو آئی ہیں مگر انہیں دیکھ کر جی چاہتا ہے کہ وہ پردے کے پیچھے ہی رہتیں تو اچھّا تھا، آپ کے میکس فیکٹر نے ان کا حلیہ اور بھی مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔ آپ مفت گندم بھیجتے ہیں، مفت لٹریچر بھیجتے ہیں، مفت ہتھیار بھیجتے ہیں، کیوں نہیں آپ سو دو سو ٹھیٹ امریکی لڑکیاں یہاں روانہ کر دیتے جو ساقی گری کے فرائض بطریقِ احسن انجام دیں۔

میں اپنی بیماری کا ذکر کر رہا تھا۔ اس کا باعث وہی خانہ ساز شراب تھی۔الّلہ اس خانہ خراب کا خانہ خراب کرے، زہر ہے لیکن نہایت خام قسم کا۔ سب کچھ جانتا تھا، سب کچھ سمجھتا تھا مگر؎

میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب

اسی عطّار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

جانے اس عطّار کے لونڈے میں کیا کشش تھی کہ حضرتِ میر اسی سے دوا لیتے رہے، حالانکہ وہی ان کے مرض کا باعث تھا۔ یہاں میں جس شراب فروش سے شراب لیتا ہوں وہ تو مجھ سے بھی کہیں زیادہ مریض ہے۔ میں تہ پھر بھی اپنی سخت جان کی وجہ سے بچ گیا لیکن اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں۔

تین مہینے ہسپتال میں رہا ہوں، جنرل وارڈ میں تھا، مجھے وہاں آپ کی کوئی امریکی امداد نہ ملی، میرا خیال ہے آپ کو میری بیماری کی کوئی اطلاح نہٰن ملی ورنہ آپ ضرور وہاں سے دو تین پیٹیاں ٹیرا مائی سین کی روانہ کر دیتے اور ثوابِدارین حاصل کرتے۔

ہماری فورن پبلسٹی بہت کمزور ہے، اس کے علاوہ ہماری حکومت کو ادیبوں، شاعروں اور مصوّروں سے کوئی دلچسپی نہیں آخر؎

کس کس کی حاجت روا کرے کوئی

ہماری پچھلی مرحوم گورنمنٹ تھی، جنگ شروع ہوئی تو انگریز بہادر نے فردوسیٴ اسلام حفیظ جالندھری کو سونگ پبلسٹی ڈیپارٹمنٹ کا ڈائریکٹر بنا کر ایک ہزار روپیہ ماہوار مُقرّر کر دیا۔ پاکستان بنا تو اس کو صرف ایک کوٹھی اور شاید ایک پریس الاٹ ہوا۔ اب بیچارہ اخباروں میں اپنا رونا رو رہا ہے کہ ترانہ کمیٹی نے اس کو نکال باہر کیا حالانکہ سارے پاکستان میں اکیلا وہی شاعر ہے جو دنیا کی اس سب سے بڑی اسلامی سلطنت کے لئے قومی ترانہ لکھ سکتا ہے اور اس کی دھن بھی تخلیق کر سکتا ہے۔

اس نے اپنی انگریز بیوی کو طلاق دیدی ہے اس لئے کہ انگریزوں کا زمانہ ہی نہیں رہا۔ اب سنا ہے کسی امریکی بیوی کی تلاش میں ہے۔ چچا جان! خدا کے لئے اس کی مدد کیجئے ایسا نہ ہو کہ غریب کی عاقبت خراب ہو۔

آپ کے یوں تو لاکھوں اور کروڑوں بھتیجے ہیں۔ لیکن مجھ جیسا بھتیجا آپ کو ایٹم بم کی روشنی میں بھی کہیں نہیں ملے گا۔ قبلہ کبھی ادھر بھی توجّہ کیجئے، بس آپ کی ایک نظرِ التفات کافی ہے۔ صرف اتنا اعلان کر دیجئے کہ آپ کا ملک (خدا اسے رہتی دنیا تک سلامت رکھے) صرف اسی صورت میں میرے ملک کو (خدا اس کے شراب کشید کرنے والے کارخانوں کو نیست و نابود کرے) فوجی امداد دینےکے لئے تیار ہو گا، اگر سعادت حسن منٹو آپ کے حوالے کر دیا جائے۔

یہاں میری وقعت ایک دم بہت بڑھ جائے گی، میں اس اعلان کے بعد شمع معمّے اور ڈائریکٹر معمّے حل کرنا بند کر دوں گا۔ بڑی بڑی شخصیتیں میرے غریب خانے پر آئیں گی، میں آپ سے بذریعہ ہوائی ڈاک ٹھیٹ امریکی مسکراہٹ منگوا کر اپنے ہونٹوں پر لگا لوں گا اور اس کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔

اس مسکراہت کے ہزار معنی ہوتے ہیں، مثال کے طور پر”آپ نرے کھرے گدھے ہیں“،”آپ پرلے درجے کے ذہین آدمی ہیں“،”آپ سے مل کر مجھے بہت کوفت ہوئی“،”آپ سے مل کر مجھے بے حد مُسرّت حاصل ہوئی“،”آپ امریکہ کی بنی ہوئی بشرٹ ہیں“،”آپ پاکستان کی بنی ہوئی ماچس ہیں“،”آپ عراق گاؤ زبان ہیں“،”اپ کوکا کولا ہیں“ وغیرہ وغیرہ۔

میں رہنا پاکستان ہی میں چاہتا ہوں کہ مجھے اس کی خاک بہت عزیز ہے جو میرے پھیپڑوں میں مستقبل جگہ بنا چکی ہے لیکن میں آپ کے ملک میں ضرور آؤں گا، اس لئے کہ میں اپنا کایا پلٹ کرانا چاہتا ہوں۔ پھیپڑے چھوڑ کر میں اپنے تمام باقی اعضا آپ کے ماہروں کے سپرد کر دوں گا اور ان سے کہوں گا کہ وہ انہیں امریکی طرز کا بنا دیں۔

مجھے امریکی چال ڈھال بہت پسند ہے اس لئے کہ چال ڈھال کا کام دیتی ہے اور ڈھال چال کا۔ آپ کی بشرٹ کا نیا ڈیزائن بھی مجھے بہت بھاتا ہے، ڈیزائن کا ڈیزائن اور اشتہار کا اشتہار۔ ہر روز یہاں آپ کے دفتر میں گئے مطلب کی یعنی پروپیگنڈے کی چیزیں اس پر چھپوائیں اور ادھر ادھر گھومتے پھرتے کبھی شیزان میں جا بیٹھئے، کبھی کافی ہاؤس میں اور کبھی چائنیز لنچ ہوم میں۔

پھر میں ایک پیکاڑد چاہتا ہوں، تاکہ جب میں یہ شرٹ پہنے، منہ میں آپ کا تحفے کے طور پر دیا ہوا پائپ دبائے مال پر سے گزروں تو لاہور کے سب ترقّی پسند اور غیر ترقّی پسند ادیبوں کو محسوس ہو کہ وہ سارا وقت بھاڑ ہی جھونکتے رہے تھے۔

لیکن دیکھئے چچا جان، اس کے پیٹرول کا بندوبست آپ ہی کو کرنا پڑے گا۔ ویسے میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ پیکارڈ ملتے ہی میں ایک افسانہ لکھوں گا جس کا عنوان”ایران کا نومن تیل اور رادھا“۔ یقین مانئے اس افسانے کے شائع ہوتے ہی ایران کے تیل کا اٹنٹا ہی ختم ہو جائے گا اور مولاناظفر علی خان کو جو ابھی تک بقید حیات ہیں اپنے اس شعر می مناسب و موزوں ترمیم کرنا پڑے گی؎

وائے ناکامی کہ چشمے تیل کے سوکھے تمام

لے کے لارڈ جارج جب بھاگے کنستر ٹین کا

ایک چھوٹا سا، ننّھا منّا ایٹم بم تو میں آپ سے ضرور لوں گا۔ میرے دل میں مدّت سے یہ خواہش دبی پڑی ہے کہ میں اپنی زندگی میں ایک نیک کام کروں۔ آپ پوچھیں گے، یہ نیک کام کیا ہے؟

ٓاپ نے خیر کئی نیک کام کئے ہیں اور بدستور کئے جا رہے ہیں۔ آپ نے ہیروشیما کو صفحہِ ہستی سے نابود کیا، ناگاساکی کو دھوئیں اور گرد و غبار میں تبدیل کر دیا، اس کے ساتھ ساتھ آپ نے جاپان میں لاکھوں امریکی بچّے پیدا کئے۔

فکر ہر کس بقدر ہمت است۔ میں ایک ڈرائے کلین کرنے والے کو مارنا چاہتا ہوں۔ ہمارے یہاں بعض مولوی قسم کے حضرات پیشاب کرتے ہیں تو ڈھیلا لگاتے ہیں، مگر آپ کیا سمجھیں گے۔ بہر حال معملہ کچھ یوں ہوتا ہے کہ پیشاب کرنے کے بعد وہ صفائی کی خاطر کوئی ڈھیلا اٹھاتے ہیں اور شلوار کے اندر ہاتھ ڈال کر سرِ بازار ڈرائے کلین کرتے چلتے پھرتے ہیں۔

میں بس یہ چاہتا ہوں کہ جونہی مجھے کوئی ایسا آدمی نظر آئے، جیب سے آپ کا دیا ہوامنی ایچر ایٹم بم نکالوں اور اس پر دے ماروں تاکہ ڈھیلے سمیت دھواں بن کر اڑ جائے۔

ہمارے ساتھ فوجی امداد کا معاہدہ بہت معرکے کی چیز ہے، اسے قائم رکھئے گا۔ ادھر ہندوستان کے ساتھ بھی ایسا ہی رشتا استوار کر لیجئے، دونوں کو پرانے ہتھیار بھیجئے کیونکہ اب تو آپ نے وہ تمام ہتھیار کنڈم  کر دئے ہوں گے جو آپ نے پچھلی جنگ میں استعمال کئے تھے۔

آپ کا یہ فالتو اسلحہ ٹھکانے لگ جائے گا اور آپ کے کارخانے بھی بیکار نہیں رہیں گے۔

بنڈت جواہر لال نہرو کشمیری ہیں، ان کو تحفے کے طور پر ایک ایسی بندوق بھیجئے گا جو دھوپ میں رکھنے سے ٹھس کرے۔ کشمیری میں بھی ہوں، میں نے اپنے لئے آپ سے ننّھا ایٹم بم مانگ لیاہے۔

ایک بات اور۔ یہاں دستور بننے ہی میں نہیں آتا، خدا کے لئے آپ وہاں سے کوئی ماہر جلد از جلد روانہ کیجئے۔ قوم بغیر ترانے کے تو چل سکتی ہے، لیکن دستور کے بغیر نہیں چل سکتی۔ لیکن آپ چاہیں تو بابا چل بھی سکتی ہے۔

جو چاہے آپ کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے

ایک اور بات، یہ خط ملتے ہی امریکی ماچسوں کا ایک جہاز روانہ کر دیجئے۔ یہاں جو ماچس بنتی ہے اس کو جلانے کے لئے ایرانی ماچس خریدنی پڑتی ہے، لیکن آدھی ختم ہونے کے بعد یہ بیکار ہو جاتی ہے اور بقایا تیلیاں جلانے کے لئے روسی ماچس لینا پڑتی ہے جو پٹاخے زیادہ چھوڑتی ہے جلتی کم ہے۔

امریکی گرم کوٹ بہت خوب ہیں، لنڈا بازار ان کے بغیر بلکل لنڈا تھا، مگر آپ پتلونیں کیوں نہیں بھیجتے؟ کیا آپ پتلونیں نہیں اتارتے؟ ہو سکتا ہے کہ ہندوستان روانہ کر دیتے ہوں۔ آپ بڑے کائیاں ہیں، ضرور کوئی بات ہے، ادھر کوٹ بھیجتے ہیں، ادھر پتلونیں، جب لڑائی ہوگی تو آپ کے کوٹ اور آپ ہی کی پتلونیں، آپ ہی کے بھیجے ہوئے ہتھیاروں سے لڑیں گے۔

یہ میں کیا سن رہا ہوں کہ چارلی چپلن اپنے امریکی شہریت کے حقوق سے دست بردار ہو گیا ہے؟ اس مسخرے کو کیا سوجھی؟ ضرور اس کو کمیونزم ہو گیا ہے۔ ورنہ ساری عمر آپ کے ملک میں رہا، یہیں اس نے نام کمایا، یہیں اس نے دولت حاصل کی، کیا اسے وہ وقت یاد نہ رہا جب لندن کے گلی کوچوں میں بھیک مانگتا پھرتا تھا اور کوئی پوچھتانہیں تھا۔

روس چلا جاتا۔ لیکن وہاں مسخروں کی کیا کمی ہے، چلو انگلستان ہی میں رہے اور کچھ نہیں تو وہاں کے رہنے والوں کو امریکنوں کا سا کھل کے ہنسنا تو آ جائے گا، اور وہ جو ہر وقت اپنے چہروں پر سنجیدگی اور طہارت کا غلاف چڑھائے رکھتے ہیں کچھ تو اپنی جگہ سے ہٹے گا۔

اچھا میں اب خط کو بند کرتا ہوں۔

بنڈی لانا کو فری اسٹائل کا ایک بوسہ۔

خاکسار

سعادت حسن منٹو

۱۵؍مارچ ۱۹۵۴

۳۱ لکشمی مینشنز، مال روڈ، لاہور

Leave a Reply