چچا سیم کے نام دوسرا خط

مُکرّمی و محترمی چچا جان!

تسلیمات

عرصہ ہوا میں نے آپ کی خدمت میں ایک خط ارسال کیا تھا۔ آپ کی طرف سے تو اس کی کوئی رسید نہ آئی مگر کچھ دن ہوئے آپ کے سفارت خانے کے ایک صاحب جن کا اسمِ گرامی مجھے اس وقت یاد نہیں، شام کو میرے غریب خانے پر تشریف لائے۔ ان کے ساتھ ایک سوڈیشی نو جوان بھی تھے۔ ان صاحبان سے جو گفتگو ہوئی وہ میں مختصراً بیان کر دیتا ہوں۔

ان صاحب سے انگریزی میں مصافحہ ہوا۔ مجھے حیرت ہے چچا جان کہ وہ انگریزی بولتے تھے، امریکی نہیں، جو میں ساری عمر نہیں سمجھ سکتا۔

بہر حال ان سے آدھ پون گھنٹہ باتیں ہوئیں۔ وہ مجھ سے مل کر بہت خوش ہوئے، جس طرح ہر امریکی پاکستانی یا ہندوستانی سے مل کر خوش ہوتا ہے۔ میں نے بھی یہی ظاہر کیا ہے کہ مجھے بڑی مُسرّت ہوئی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مجھے سفید فام امریکنوں سے مل کر کوئی راحت یا مُسرّت نہیں ہوتی۔

آپ میری صاف گوئی کا بُرا نہ مانئے گا۔ پچھلی بڑی جنگ کے دوران میں میرا قیام بمبئی میں تھا۔ ایک روز مجھے بمبئی سنٹرل (ریلوے اسٹیشن) جانے کا اِتّفاق ہوا۔ ان دنوں وہاں آپ ہی کے ملک کا دور دورہ تھا۔ بے چارے ٹامیوں کو کوئی پوچھتا ہی نہیں تھا۔ بمبئی میں جتنی اینگلو انڈین، یہودی اور پارسی لڑکیاں، جو عصمت فروشی کو از راہِ فیشن اختیار کئے ہوئے تھیں، امریکی فوجیوں کی بغل میں چلی گئیں۔

چچا جان، میں آپ سے سچ عرض کرتا ہوں کہ جب آپ کے امریکہ کا کوئی فوجی کسی یہودن،پارسی یا اینگلو انڈین لڑکی کو اپنے ساتھ چمٹائے گزرتا تھا تو ٹامیوں کے سینے پر سانپ لوٹ جاتے تھے۔

اصل میں آپ کی ہر ادا نرالی ہے۔ ہمارے فوجی کو تو یہاں اتنی تنخواہ ملتی ہے کہ وہ اس کا آدھا پیٹ بھی نہیں بھر سکتی۔ مگر آپ ایک معمولی چپڑاسی کو اتنی تنخواہ دیتے ہیں کہ اگر اس کے دو پیٹ ہیں تو وہ ان کو بھی ناک تک بھر دے۔

چچا جان، گستاخی معاف، کیا یہ فراڈ تو نہیں؟ آپ اتنا روپیہ کہاں سے لاتے ہیں؟ چھوٹا منہ اور بڑی بات ہے لیکن آپ جو کام کرتے ہیں اس میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نمائش ہی نمائش ہے۔ہو سکتا ہے کہ میں غلطی پر ہوں مگر غلطتیاں انسان ہی کرتا ہےاور میرے خیال ہے کہ آپ بھی انسان ہیں، اگر نہیں ہیں تو میں اس کے متعلّق تچھ نہیں کہہ سکتا۔

میں کہاں سے کہاں چلا گیا۔ بات بمبئی سنٹرل ریلوے اسٹیشن کی تھی۔ میں نے وہاں آپ کے کئی فوجی دیکھے۔ ان میں زیادہ تر سفید فام تھے، کچھ سیاہ فام بھی تھے۔ میں آپ سے سچ عرض کروں کہ یہ کالے فوجی، سفید فوجیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تنو مند اور صحت مند تھے۔

میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کے ملک کے لوگ اس کثرت سے چشمہ کیوں استعمال کرتے ہیں۔ گوروں نے تو خیر چشمے لگائے ہوئے تھے لیکن کالوں نے بھی جنہیں آپ حبشی کہتے ہیں اور بوقتِ ضرورت “لنچ” کر دیتے ہیں۔  وہ کیوں عینک کی ضرورت محسوس کرتے ہیں؟ میرا خیال ہے کہ یہ سب آپ کی حکمتِ عملی ہے۔ آپ چونکہ پانچ آزادیوں کے مُدّئی ہیں، اس لئے آپ چاہتے ہیں کہ وہ لوگ جنہیں آپ بڑی آسانی سے ہمیشہ کے لئے آرام کی نیند سلا سکتے ہیں اور سلاتے رہتے ہیں، ایک موقعہ دیا جائے کہ وہ آپ کی دنیا کو آپ کی عینک سے دیکھ سکیں۔

میں نے وہاں بمبئی سنٹرل کے اسٹیشن پر ایک حبشی فوجی کو دیکھا۔ اس کے ڈنٹر یہ موٹے موٹے تھے۔ وہ اتنا تن و مند تھا کہ میں دڑ کے مارے سکڑ کر آدھا ہو گیا۔ لیکن پھر بھی میں نے جُرأت سے کام لیا۔

وہ اپنے سامان سے ٹیک لگائے سستا رہا تھا۔ میں اس کے پاس گیا۔ اس کی آنکھیں مندی ہوئی تھیں۔ میں نے بوٹ کے ذریعے سے آواز پیدا کی۔ اس نے آنکھیں کھولیں تو میں نے اس سے انگریزی میں کہا، جس کا مفہوم یہ تھا: “میں یہاں سے گزر رہا تھا، لیکن آپ کی شخصیّت دیکھ کر ٹھہر گیا۔” اس کے بعد میں نے مصافہہ کے لئے ہاتھ بڑھایا۔

اس کالے کلوٹے فوجی نے جو چشمہ لگائے ہوئے تھا اپنا فولادی پنجا میرے ہاتھ میں پیوست کر دیا۔ قریب تھا کہ میری ساری ہڈیاں چور چور ہو جائیں کہ میں نے اس سے التجا کی: “خدا کے لئے، بس اتنا ہی کافی ہے۔”

اس کے کالے کالے ہونٹوں پر مسکراہٹ پیدا ہوئی اور اس نے ٹھیٹ امریکی لہجے میں مجھ سے پوچھا “تم کون ہو؟”

میں نے اپنا ہاتھ سہلاتے ہوئے جواب دیا “میں یہاں کا باشندہ ہوں۔ یہاں اسٹیشن پر تم نظر آ گئے تو بے اختیار میرا جی چاہا کہ تم سے دو باتیں کرتا جاؤں۔ “

اس نے مجھ سے عجیب و غریب سوال کیا: “اتنے فوجی ہی موجود ہیں۔ تمہیں مجھ ہی سے ملنے کا شوق کیوں پیدا ہوا؟”

چچا جان سوال ٹیڑھا تھا، لیکن جواب خود بخود میری زبان پر آ گیا۔ میں نے اس سے کہاَ : “میں کالا ہوں، تم بھی کالے ہو۔ مجھے کالے آدمیوں سے پیار ہے۔”

وہ اور زیادہ مسکرایا۔ اس کے کالے اور موٹے ہونٹ مجھے اتنے پیارے لگے کہ میرا جی چاہتا تھا کہ انہیں چوم لوں۔

چچا جاں، آپ کے ہاں بڑی خوب صورت عورتیں ہیں۔ میں نے آپ کا ایک فلم دیکھا تھا، کیا نام تھا، ہاں یاد آ گیا۔ “بیدنگ بیوٹی” یہ فلم دیکھ کر میں نے اپنے دوستوں سے کہا تھا کہ چچا جان اتنی خوب صورت ٹانگیں کہاں سے اکٹھی کر لائے ہیں۔

میرا خیال ہے قریب قریب دو ڈھائی سو کے قریب تو ضرور ہونگی۔ چچا جان، کیا واقعی آپ کے ملک میں ایسی ٹانگیں عام ہوتی ہیں؟ اگر عام ہوتی ہیں تو خدا کے لئے (اگر آپ خدا کو مانتے ہیں) تو ان کی نمائش کم از کم پاکستان میں بند کر دیجئے۔

ہو سکتا ہے یہاں آپ کی عورتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ اچھی ٹانگیں ہوں، مگر چچا جان یہاں کوئی ان کی نمائش نہیں کرتا۔ خدا کے لئے سوچئے کہ ہم صرف اپنی بیوی ہی کی ٹانگیں دیکھتے ہیں۔ دوسری عورتوں کی ٹانگیں ہم اپنے آپ پر حرام سمجھتے ہیں۔ ہم بڑے اورتھوڈوکس قسم کے آدمی ہیں۔

بات کہاں سے نکلی تھی، کہاں چلی گئی۔ میں اس کی معزرت نہیں چاہتا کہ آپ ایسی ہی تحریر پسند کرتے ہیں۔

کہنا یہ تھا کہ آپ کہ وہ صاحب جو یہاں کے قونسل خانے سے وابسطا ہیں، میرے پاس تشریف لائے اور مجھ سے درخواست کی کہ میں ان کے لئے ایک افسانہ لکھوں۔ میں بہت متحیّر ہوا، اس لئے کہ مجھے انگریزی میں لکھنا آتا ہی نہیں۔ میں نے ان سے عرض کی:”جناب میں اردو زبان کا رائٹر ہوں، میں انگریزی نہیں جانتا۔”

انہوں نے فرمایا:”مجھے اردو چاہئے۔ ہمارا ایک پرچہ ہے، جو اردو میں شائع ہوتا ہے۔”

میں نے اس کے بعد مزید تفتیش کی ضرورت نہ سمجھی اور کہا:”میں حاضر ہوں۔”

اور خدا واحد ناظر ہے کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ آپ کے کہے پر تشریف لائے ہیں۔ آپ نے انہیں میرا وہ خط پڑھا دیا تھا جو میں نے آپ کو لکھا تھا۔

خیر، اس قصّے کو چھوڑئیے۔جب تک پاکستان کو گندم کی ضرورت ہے، میں آپ سے کوئی گستاخی نہیں کر سکتا۔ویسے بحیثیت پاکستانی  ہونے کے (حالانکہ میری حکومت مجھے اطاعت گزار نہیں سمجھتی) میری دعا ہے کہ خدا کرے کبھی آپ کو بھی باجرے اور “نک سک کے ساگ” کی ضرورت پڑے اور میں اگر اس وقت زندہ ہوں تو آپ کو بھیج سکوں۔

اب سنئے کہ صاحب کو جن کو آپ نے بھیجا تھا مجھ سے پوچھا: “آپ ایک افسانے کے کتنے روپے لیں گے۔”

چچا جان، ممکن ہے آپ جھوٹ بولتے ہوں، اور آپ یقیناً بولتے ہیں، بطور فن، اور یہ فن مجھے ابھی تک نصیب نہیں ہوا۔

لیکن اس روز میں نے ایک مبتدی کے طور پر جھوٹ بولا اور ان سی کہا:”میں ایک افسانے کے دو سو روپے لوں گا”

اب حقیقت یہ ہے کہ یہاں کے ناثر مجھے ایک افسانے کے لئے زیادہ سے زیادہ چالیس پچاس روپے دیتے ہیں۔ میں نے “دو سو روپیہ” تو کہہ دیا لیکن مجھے اس احساس سے اندرونی طور پر سخت ندامت ہوئی کہ میں نے اتنا جھوٹ کیوں بولا، لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔

لیکن چچا جان مجھے سخت حیرت ہوئی، جب آپ کے بھیجے ہوئے صاحب نے بڑی حیرت سے (معلوم نہیں، وہ مصنوئی تھی یا اصلی) فرمایا: “صرف دو سو روپے؟ کم از کم ایک افسانے کے لئے مانچ سو روپے تو ہونے چاہئیں۔”

اب میں حیرت زدہ ہو گیا کہ ایک افسانے کےلئے پانچ سو روپے؟ یہ تو میرے خواب و خیال میں بھی نہیں آ سکتا تھا، لیکن میں اپنی بات سے کیسے ہٹ سکتا تھا، چنانچہ میں نے چچا جان، ان سے کہا: “صاحب دیکھئے، دو سو روپے ہی ہوں گے، بس اب آپ اس کے متعلّق زیادہ گفتگو نہ کیجئے۔”

وہ چلے گئے، شاید اس لئے کہ وہ سمجھ چکے تھے کہ میں نے پی رکھی ہے۔ وہ شراب جو میں پیتا ہوں، اس کا ذکر میں اپنے پہلے خط میں کر چکا ہوں۔

چچا جان، مجھے حیرت ہے کہ میں اب تک زندہ ہوں، حالانکہ مجھے پانچ برس ہوگئے ہیں، یہاں کا کشیدہ زہر پیتے ہوئے، میرا خیال ہے۔ اگر آپ یہاں تشریف لائیں، تو میں آپ کو یہ زہر پیش کروں گا۔ امید ہے آپ بھی میری طرح حیرت انگیز طور پر زندہ رہیں گے اور آپ کے پانچ آزادیاں بھی سلامت رہیں گی۔

خیر، اس قصّے کو چھوڑیئے، دوسرے روز صبح سویرے جب کہ میں بر آمدے میں شیو کر رہا تھا۔آپ کے وہی صاحب تشریف لئے مختصر سی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا: “دیکھئے، دو سو کی رٹ چھوڑیئے، تین سو لے لیجئے”

میں نے کہا، چلو ٹھیک ہے، چنانچہ میں نے ان سے تین سو روپے لے لئے۔ روپے جیب میں رکھنے کے بعد میں نے ان سے کہا: “میں نے آپ سے سو روپے زیادہ وصول کئے ہیں، لیکن یہ واضح رہے کہ جو کچھ میں لکھوں گا وہ آپ کی مرضی کے مطابق نہیں ہو گا۔اس کے علاوہ اس میں کسی قسم کے رد و بدل کا حق بھی میں آپ کو نہیں دوں گا۔”

وہ چلے گئے، پھر نہیں آئے۔  چچا جان اگر آپ کے پاس پہنچے   ہوں ااور انہوں نے آپ کو کوئی رپورٹ پہنچائی ہو تو ازراہِ کرم اپنے پاکستانی بھتیجے کو اس سے ضرور مطلّع فرما دیں۔

میں وہ تین سو روپے خرچ کر چکا ہوں۔ اگر آپ واپس لینا چاہیں، تو میں ایک روپیہ ماہوار کے حساب سے ادا کر دوں گا۔

امید ہے کہ آپ اپنی پانچ آزادیوں سمیت خوش و خرّم ہوں گے۔

خاکسار

آپ کا بھتیجا۔ سعادت حسن منٹو

۳۱ لکشمی مینشنز،  مال روڈ،  لاہر

Leave a Reply