زبان اور ٹیکنالوجی: روشن خیالی کا ذریعہ؟

Click here for English version

میری دوست سے فون پرگفتگو جیسے ہی ختم ہوئی، ہیلسنکی شہر کے ایک کافی شاپ میں ساتھ بیٹھے دوسری دوست نے تعجب سے پوچھا کہ  کیاتمہاری دوست بھی پاکستانی ہے؟میں نے کہا ہاں۔ اس نے پوچھا کیا وہ اردو بولتی ہے؟ میں نے کہا ہاں بلکل۔ “تو پھر تم دونوں انگریزی میں کیوں بات کر رہے تھے؟ “اس سوال کا جواب میرے پاس موجود تھا:جنوبی ایشیا میں انگریزوں کی آمد سے یہاں یہ ہی سرکاری زبان رہی ہے، اور اب بھی اسکول کالجوں میں اس ہی زباں میں تعلیم دی جاتی ہے۔ مگر  مجھےاس جواب پر ہمیشہ شک رہا ہے۔

پاکستان میں اس موضوع پر بحث کے دونظریاتی گروپ نمایاں ہیں۔قوم پرست جو اردو کو سارے ملک پر مسلّت کرنا چاہتے ہیں اور گلوبلسٹ جن کا ماننا یہ ہے کہ انگریزی ضرورتِ وقت ہے اور علاقائی زبانوں کا زوال ناگزیر تو کیا فائدہ اردو یا کوئی اور علاقائی زبان سیکھنے کا؟ یہ دونوں زاویےحقیقت سے دور ہونے کے باعث نا قابلِ عمل حل کی طرف لے جاتے ہیں۔جیسے کہ سنہ 2015 میں سپریم کورٹ کا یہ حکم نامہ کہ دستورِ پاکستان کے مطابق انگریزی کی جگہ اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا جائے۔ مزید یہ کہ اس موضوع کو کبھی ٹیکنولوجی یا اس کی غیر مساوی دستیابی کی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔ [1]

لسانی اشرافیہ کی موجودگی میں زیادہ تر پاکستانی نہ پالیسی سازی کے عمل میں شریک ہو سکتے ہیں، نہ ٹریفک سائن وغیرہ پڑھ سکتے ہیں، اور نہ اپنے سماجی حالات بہتر کر سکتے ہیں بلکہ احساسِ کمتری مہسوس کرتے ہیں  ۔ [2] سماجی حالات میں بہتری تب ہی ممکن ہو پاتی ہے جب کوئی اپنی مادری زبان کو نظر انداز کرے، اور زبان کے ساتھ اس کا ادب، قصے کہانیاں، حکمت اور قربت کو بھی کھو دے  ۔ [3] بابا بلّے شاہ کی زبان پنجابی، جس کے چھہ کروڑ بولنے والے ہیں، میں ایک بھی بڑا اخبار یا رسالہ شائع نہیں ہوتا  ۔ [4] یہ  موجودہ وزیرِ اعظم نواز شریف کی بھی زبان ہے، جن کے پچھلے ادوار میں اس زبان کےآخری اخباروں کو معیشے طور پر گھوٹ کر بند کر دیا گیا تھا۔سنا ہے کے یہ حکومتی پالسیوں کے ناقد تھے۔  [5] اس موضوع کی اہمیت کسی زبان سے جزباتی لگاؤ یا احساسِ برتری کے باعث نہیں ہے بلکہ یہ در اصل روشن خیالی کی کلیدہے۔

انگریزی میں مہارت کی رینکنگ میں پاکستان کا نمبر 48  آتا ہے جب کہ ہندوستان کا نمبر 22 اور چین کا نمبر 39 ہے۔ [6] ان ممالک میں انگریزی کی زیادہ مہارت کے باوجود  ڈیجیٹل آلات مقامی زبانوں  سے مطابقت رکھتے ہیں۔اس کے بر عکث پاکستان میں مواصلات، معلومات اور علم کا حصول ان کروڑوں لوگوں کیلئے مشکل ہے جو انگریزی نہیں جانتے۔ کیا یہ صورتِ حال ایک ایسی دنیا میں قابلِ قبول ہے جہاں ہارورڈ بزنس سکول جیسا ادارہ بھی آن لائن نصاب فراہم کرتا ہے۔

اٹھارویں صدی میں شہر برلن کی سائنسی تنظیم نے ایک مقابلے کا انعقاد کرایا اور مفکروں کے سامنے یہ سوال رکھا: رائے عامہ کا زبان پر اور زبان کا رائے عامہ پر کیا اثر ہوتا ہے؟یہ مقابلہ یوہان ڈیوڈ میکائلیس نے جیتا جنہوں نے لکھا کہ زبان ایک ایسا آرکاؤ ہے جس میں ایک قوم کی رائے عامہ کی تاریخ، چاہے وہ سچ ہو یا جھوٹ، مہفوظ ہوتی ہے۔ جس کامطلع کیا جا سکتا ہے۔یوہان نے سائنس دانوں اور عالموں کی لسانی بربریت کو رد کیا جو ایک عالمگیر زبان مسلت کرنا چاہتے تھے۔ اس کے بجائے یوہان نے اس زبان کوترجیح دی جو عام لوگ استعمال کرتے ہوں۔ [7] پاکستان میں لسانی معملات کی تاریخ میں بھی کچھ اس قسم کی لسانی بربریت موجود ہے مگر ہم خوش قسمت ہیں کہ ماضی کی حماقتوں کے باوجود ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں تکنیکی ترقی کے باعث نا ممکن بھی ممکن ہو گیا ہے۔

پچھلے سال گوگل نے اپنی سہولتِ ترجمہ کو ایک نئے سسٹم پرمنتقل کیا۔یہ سسٹم مصنوئی ذہانت پر مبنی ہے۔ 9 مہینے میں بنائے گئے اس سسٹم نے جلد ہی وہ بہتری دکھائی جسے پچھلے سسٹم نے سالوں میں حاصل کیا تھا۔ مصنوئی ذہانت کے اس سسٹم نے، اپنی مرضی سے، ایک ایسی زبان ایجاد کی جس کے ذریعے ترجمہ کرنے میں آسانی ہو۔ [8] لبِ لباب یہ ہے کہ کئی ایسے کام ہیں جنہیں ماضی میں کرنے جاتے تو بہت وسائل درکار ہوتے لیکن مصنوئی ذہانت اور مشین لرننگ کے ساتھ بہ آسانی کر سکتے ہیں۔

تکنیکی ترقی اورمواصلاتی ٹیکنالوجی کے انقلاب نے زندگی تو بدل دی ہے لیکن اگر یہ سہولیات صرف انگریزی بولنے والی اشرافیہ کو دستیاب رہیں گی تو عدم مساوات کا رجہان اور بڑھے گا۔ دیکھا جائے تو سمارت فون اور تیز انٹرنیٹ کا یہ انقلاب اس انقلاب سے مختلف نہیں جو چھاپا خانے یورپ میں لائےتھے۔ سولویں صدی  میں یورپ کے ان شہروں میں ساٹھ فیصد زیادہ ترقی ہوئی جہاں پندرویں صدی میں چھاپا خانے بنائے گئے تھے۔ [9]

چھاپا خانے کیا کریں گے جو تکنیکی ترقی کے دور میں بہتر، تیز تر، سستا، اور زیادہ آسانی کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ مصنوئی ذہانت، مشین لرننگ اور قدرتی لسانی پروسسنگ میں سرمایا کاری اور حکومتی و نجی اداروں کے اشتراک کے ساتھ جدت کا ایک ایسا ماحولیاتی نطام بنایا جا سکتا ہے جو پاکستانیوں کو سہولت، اعلیٰ ملازمتیں، اور ایک روشن خیال قومی نظریہ دے۔

Sources

[1] I. Haider, “Supreme Court orders govt to adopt Urdu as official language,” 8 September 2015. [Online]. Available: https://www.dawn.com/news/1205686. [Accessed 22 April 2017].
[2] AFP, “Pakistan’s regional languages face looming extinction,” 06 January 2017. [Online]. Available: https://www.dawn.com/news/1306783. [Accessed 20 April 2017].
[3] Dawn, “Losing languages,” 20 January 2017. [Online]. Available: https://www.dawn.com/news/1307029. [Accessed 20 April 2017].
[4] S. Ahmed, “Mother languages still denied due status,” 21 February 2017. [Online]. Available: https://www.dawn.com/news/1316054. [Accessed 20 April 2017].
[5] DAWN, “Another daily in Punjabi,” 28 May 2011. [Online]. Available: https://www.dawn.com/news/632447. [Accessed 22 April 2017].
[6] Education First, “English Proficiency Index – Pakistan vs. China,” 2015. [Online]. Available: http://www.ef.com/epi/compare/regions/pk/cn/. [Accessed 20 April 2017].
[7] C. W. Dyck, “Book Review: Language and Enlightenment: The Berlin Debates of the Eighteenth Century,” 26 December 2013. [Online]. Available: https://ndpr.nd.edu/news/language-and-enlightenment-the-berlin-debates-of-the-eighteenth-century/. [Accessed 22 April 2017].
[8] G. Lewis-Kraus, “The Great A.I. Awakening,” 14 December 2016. [Online]. Available: https://www.nytimes.com/2016/12/14/magazine/the-great-ai-awakening.html. [Accessed 22 April 2017].
[9] J. Dittmar, “Information Technology and Economic Change: The Impact of the Printing Press,” The Quarterly Journal of Economics, vol. 126, no. 3, pp. 1133-1172, 1 August 2011.

Leave a Reply