جنسی تعلقات

کیناڈا میں مقیم ایک پاکستانی لڑکی نے جب کچھ دن پہلے ایک بین الاقوامی جریدہ میں جنسی تعلقات پر مضمون لکھا تو وطنِ عزیز میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ مصنفہ نے پاکستانی معاشرے کا ایسا چہرہ پیش کیا جس سے اختلاف کرنا تو مشکل ہے، لیکن مدہ رہ گیا اور موضوعِ بہث مصنفہ کی جنسی روداد بن گئی۔ پھر ہمارے دور کا عجب المیا ہے کہ ایسے موضوعات پہ گفتگو انگریزی کی اجارہ داری بن گئی ہے ۔ پھر ہمیں کیوں تعجب ہے کہ یہ قوم ان خیالات سے اپنی اقدار کا دفعہ چاہتی ہے؟ پرائی زبان میں پرائے ملک سے  کی گئی بات کیا خاک سمجھ آئے گی۔

ہمارے یہاں منافقت ڈھونڈنی نہیں پڑتی، سرِآم نظر آتی ہے۔ بس میں پسینے سے شرابور عورت کو چھیڑنے والے سے لے کر با شعور عورت تک، جنسی خواہشات انسان کی فترت کا حصہ ہیں۔ لیکن ایسا کیوں ہے کہ وہ کام جسے مرد زبردستی بھی کریں تو ان کی عزت اکثر برقرار رہتی ہے، اگر عورت اپنی رضا سے کرے تو اس پر کیچڑاچھالا جاتا ہے؟

ہمارے یہاں جمہوریت اور عامریت کی کھچڑی صرف حکومتی اعوانوں میں نہیں بلکے گھر گھر پکتی ہے۔ ہر گھر ایک چھوٹی ریاست، ایک ایسے سماجی نظام میں جس میں شادی اور گھر مرد کو پلک جھپکتے مہکم سے حاکم بنا دیتے ہیں، اور عورت کو بیٹی سے ماں، کیوں کہ اور کسی چیز کی گنجائش ہم کم ہی چھوڑتے ہیں۔ ان چھوٹی ریاستوں میں پھر میرِٹ نہیں ’میری رٹ‘ چلتی ہے۔ سچ کچھ بھی ہو، سب سے عظیم فعل ہوتا ہے چپ اور فرماں بردار رہنا۔ ایسے معاشرے میں جہاں فرمان دینے لائق کم ہی لوگ ہیں۔ پر ہر گھر میں فرمان جاری ہے، نہ مازی کا علم نہ مستقبل پہ نظر۔

ان ریاستوں کے دستور اور فرمانوں کو دیکھ کر  پتا لگتا ہے کہ یہ صدیوں سے مردوں کی جاگیر رہی ہیں۔ اگر کسی کو لگتا ہے کہ آج ایسا نہیں ہے، تو اسے شاید سوچنا چاہئے کہ ایسے کتنے رویے اور اصول ہوں گے جنہیں آج ہم اپنے معاشرے  کی ’اقدار‘ کا حصہ سمجھتے ہیں لیکن ان کے پیچھے مزہب اور صقافت سے زیادہ کچھ اور ہے۔ معروف گلوکار و ملّا جنید جمشید نے جب یہ فرمایا کہ عورت کو کبھی گاڑی نہیں دینی چاہئےاور پھر Insecurity کا ذکر کیا تو میں نے غور سے سنا۔ میں سمجھا صاحب شاید بیگم کا کچھ زیادہ ہی خیال رکھتے ہیں، لیکن پھر وہ بولے ’جب جوانی میں کوئی مرد میری بیوی کو دیکھتا‘ اور میں سوچنے لگا کے یہ کس قسم کی محبت ہے؟ کچھ حد تک تو Insecurity قدرتی طور پہ ہوتی ہو گی لیکن اس کا یہ کیا علاج ہوا کے آدھی قوم کو چار دیواری میں بند کر دو؟ کسی بھی انسان سے ہمدردی رکھنا آسان نہیں، خاص طور پر اگر وہ انسان ہم سے مختلف ہو۔ اس لئے فرمان دینا آسان ہے، اور میں اس مضمون کی مصنفہ کی عزت کرتا ہوں کہ انہوں نے ایسے مشکل موضوع پر، جس میں گالیاں مقدر ہوں، بات شروع کی۔ یاد رہے، ہم دردی کے لئے ضروری نہیں کہ مدہ پہ اتفاق ہو۔

کون ہے اس ملک میں جو گناہ گار نہیں؟ ایک غیر شادی شدہ لڑکی کا اپنی مرضی کے جنسی تعلق میں ملوث ہونا زیادہ غلط ہے کہ کسی شادی شدہ عورت کا اپنے شوہر ہی سے تعلق بل جبر؟ یا کچھ اور، ماشا اللّہ ہمارے یہاں مصالوں کی کوئی کمی نہیں۔ کون سی برائی ہے جو ہمارے یہاں نہیں؟  جب گناہ اتنے عام ہوں اور زمانہ اتنا ظالم، تو ہر انسان کو کم از کم اپنے گناہ  ہی کے انتخاب کا حق دے دینا چاہیئ۔

تم اپنے گناہ کرو، ہم اپنے کرتے ہیں، لیکن کوشش کرتے ہیں کے ایک دوسرے کے جزبات کی اتنی ہی عزت کریں جتنی اپنے احساسات کے لئے چاہتے ہیں۔

ہم تو محبت کا پرچار کرتے ہیں
کوئی زِنا کرے تو یہ اٗس کا فعل ہے
روکتے کیوں ہو عشقِ باہمی رضا کو
جب نکاح بِل جبر ہم بار بار کرتے ہیں

Leave a Reply